Skip to main content

siratuljannah.site

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اے جے پبلک اسکول

اے جے پبلک اسکول، مدرسہ صراط الجنہ کے جامع تعلیمی نظام کا حصہ ہے، جہاں میٹرک تک انگلش میڈیم اور اردو میڈیم میں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ہمارا مقصد ایسے بچوں کو معیاری عصری تعلیم فراہم کرنا ہے جن کا تعلیمی پس منظر کمزور ہے، اور دنیاوی تعلیم کو ذریعہ بنا کر قرآن، دین، اخلاق اور کردار سے جوڑنا ہے۔اسکول کے طلبہ گزشتہ تین سال سے بہاولپور بورڈ کے تحت امتحانات دے رہے ہیں۔ ہمارے منفرد نظام میں ابتدائی جماعتوں کے ساتھ قرآنِ کریم کی تعلیم دی جاتی ہے، جبکہ حفظ مکمل کرنے کے بعد بچے اپنی استعداد کے مطابق دوبارہ اسکول کی تعلیم جاری رکھتے ہیں۔اب ادارہ فاسٹ ٹریک ایجوکیشن سسٹم متعارف کرا رہا ہے، جس کے تحت ہمارا ہدف ہے کہ بچہ صرف چار سال کے جامع تعلیمی سفر میں پرائمری تک سکول کی تعلیم بھی حاصل کرے اور حفظِ قرآن بھی مکمل کرے۔دوسرے 4 سالوں میں بچہ اپنی میٹرک بھی مکمل کریں اور کمپیوٹر کی جدید سکلز سے بھی مکمل طور پر اگاہ ہو جائے۔اس کے لیے ہم دوسرے چار سالہ نظام میں کمپیوٹر کورسز اور ارٹیفیشل انٹیلیجنس کے کورسز شامل کر رہے ہیں۔اے جے پبلک اسکول جدید تعلیم، قرآن سے تربیت اور کردار سے سازی سے انقلاب لانے کی خاموش کوششوں سے مصروف عمل ہے

ہمارا نظامِ تعلیم

مدرسہ صراط الجنہ، المعروف پتافی ہاؤس میں ہمارا تعلیمی نظام اس تصور پر قائم ہے کہ بچے کو صرف ایک شعبۂ تعلیم تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ قرآنِ کریم، دینی و اخلاقی تربیت، عصری تعلیم اور مستقبل کی ضروری مہارتوں کو ایک مربوط نظام کے تحت فراہم کیا جائے۔ ہمارا مقصد ایسی نسل کی تیاری ہے جس کے دل میں قرآن، کردار میں دین، ذہن میں علم اور ہاتھ میں ہنر ہو۔

پہلا مرحلہ: چار سالہ حافظ و پرائمری پروگرام

بچہ تقریباً 7 سال کی عمر میں مدرسہ صراط الجنہ میں داخل ہوتا ہے۔ پہلے چار سالوں میں اسے قرآنِ کریم کی تعلیم، بنیادی دینی و اخلاقی تربیت اور پرائمری سطح کی عصری تعلیم ایک ساتھ دی جاتی ہے۔

پہلا سال

بچے کے لیے ابتدائی تعلیمی بنیاد رکھی جاتی ہے:

– پلے گروپ — تقریباً 3 ماہ
– نرسری — 4 ماہ
– پہلی جماعت — تقریباً 5 ماہ

اس کے ساتھ قرآنِ کریم کی تعلیم کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے، جس میں قاعدہ، قرآنِ کریم کی قراءت، نماز اور مسنون دعائیں اور بنیادی دینی و اخلاقی تربیت شامل ہوتی ہے۔

دوسرا سال

بچہ تعلیمی اعتبار سے تیز رفتار انداز میں آگے بڑھتا ہے:

– دوسری جماعت — 4 ماہ
– تیسری جماعت — 4 ماہ
– چوتھی جماعت — 4 ماہ

ساتھ ساتھ مکتب تعلیم القرآن کے مرتب کردہ نصاب کے مطابق قرآنِ کریم اور دینی تعلیم جاری رہتی ہے۔

اس نصاب میں قاعدہ، ناظرہ، تجوید، مسنون دعائیں، نماز، ایمانیات، عبادات، اخلاق و آداب، سیرت و کردار، انبیائے کرام علیہم السلام، اہلِ بیت اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق بنیادی تعلیم سمیت متعدد اہم موضوعات شامل ہیں۔

ہمارے ہاں زیادہ وقت دستیاب ہونے کی صورت میں اس نصاب کو روزانہ اضافی کلاسز کے ذریعے نسبتاً تیز رفتار انداز میں مکمل کرایا جاتا ہے۔

تیسرا سال

بچہ پانچویں جماعت مکمل کرتا ہے اور بنیادی پرائمری تعلیم کی تکمیل کی طرف بڑھتا ہے۔

جن بچوں میں حفظِ قرآن کی مطلوبہ صلاحیت اور استعداد موجود ہو، انہیں حفظ کے شعبے میں منتقل کیا جاتا ہے۔

چوتھا سال

حفظِ قرآن کے لیے تقریباً ڈیڑھ سال کی اضافی مدت میں بچے کو حفظ مکمل کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ قرآنِ کریم کی دہرائی، منزل اور دینی و اخلاقی تربیت بھی جاری رہتی ہے۔

چار سال کے اختتام پر

ہمارا ہدف یہ ہے کہ بچہ:

حافظِ قرآن + پرائمری تعلیم یافتہ + بنیادی دینی علوم سے آراستہ + اخلاق و آداب اور اسلامی تربیت سے مزین

ہو کر اگلے مرحلے میں داخل ہو۔

دوسرا مرحلہ: حفاظ کے لیے چار سالہ میٹرک پروگرام

حفظِ قرآن اور پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد طالب علم کے لیے مزید چار سال کا ایسا مربوط پروگرام رکھا گیا ہے جس میں میٹرک، دینی تعلیم، عربی و انگریزی، کمپیوٹر، AI اور عملی مہارتوں کو یکجا کیا جاتا ہے۔

پہلا سال: چھٹی اور ساتویں جماعت

ایک سال میں:

– چھٹی جماعت — 6 ماہ
– ساتویں جماعت — 6 ماہ

اس کے ساتھ بنیادی کمپیوٹر تعلیم دی جاتی ہے، جس میں:

– MS Word
– MS Excel
– MS Office
– فائل بنانا اور منظم کرنا
– فائل شیئرنگ
– ای میل بھیجنا
– بنیادی ڈیجیٹل کام

شامل ہیں۔

دوسرا سال: آٹھویں جماعت

آٹھویں جماعت ایک مکمل تعلیمی سال میں پڑھائی جاتی ہے۔

ساتھ ہی:

– قرآنِ کریم کی روزانہ تعلیم اور منزل
– دینی و اخلاقی تربیت
– کے ذریعے Skill Development
– کسی ایک عملی اور مفید ہنرskill میں مہارت پیدا کرنے کی کوشش

کی جاتی ہے، تاکہ طالب علم مستقبل میں اس ہنر کو ذریعۂ آمدن کے طور پر بھی استعمال کرسکے۔

تیسرا سال: نویں جماعت

نویں جماعت میں طالب علم کو مزید آگے بڑھایا جاتا ہے:

– نویں جماعت کی تعلیم
– درسِ نظامی کا آغاز
– عربی لینگویج کورس
– AI اور جدید ڈیجیٹل Skills میں تخصص کی طرف پیش قدمی
– عملی مہارت اور Entrepreneurship کی تربیت

ہماری کوشش ہے کہ طالب علم کسی ایک AI یا جدید ٹیکنالوجی کی Skill میں ایسی مہارت حاصل کرے جسے وہ مستقبل میں پیشہ ورانہ طور پر استعمال کرسکے۔

چوتھا سال: دسویں جماعت اور میٹرک

آخری سال میں:

– دسویں جماعت اور میٹرک
– ایک سالہ عربی کورس
– درسِ نظامی کا تسلسل
– قرآنِ کریم کی دہرائی اور منزل
– منتخب AI/Digital Skill میں مزید مہارت

کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ہمارا مطلوبہ تعلیمی نتیجہ

اس مکمل تعلیمی سفر کا مقصد یہ ہے کہ ایک بچہ کم عمری سے مدرسے میں داخل ہو کر بتدریج:

قرآنِ کریم کا حافظ بنے، پرائمری تعلیم مکمل کرے، میٹرک کرے، دینی علوم اور درسِ نظامی سے وابستہ ہو، عربی و انگریزی سیکھے، کمپیوٹر اور AI کی جدید مہارتیں حاصل کرے اور کسی عملی ہنر میں قابلِ استعمال مہارت پیدا کرے۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا طالب علم صرف امتحان پاس کرنے والا فرد نہ ہو، بلکہ دین، علم، کردار، ہنر اور مستقبل کی ضروریات سے واقف ایک باصلاحیت اور ذمہ دار نوجوان بن کر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

ہمارا نصب العین

قرآن دل میں، علم ذہن میں، کردار زندگی میں اور ہنر ہاتھ میں۔

مدرسہ صراط الجنہ، المعروف پتافی ہاؤس
قرآن، علم، کردار اور ہنر کے ذریعے نسلوں کی تعمیر

وضاحتی نوٹ

مدرسہ صراط الجنہ کا مجوزہ مربوط نظامِ تعلیم اس وقت کچھ حد تک عملی طور پر رائج اور نافذ ہے، جس میں قرآنِ کریم، حفظ، دینی و اخلاقی تربیت، عصری تعلیم اور جدید مہارتوں کے مختلف مراحل شامل ہیں۔

اس نظام کے دونوں اہم چار سالہ تعلیمی پروگرامز—
چار سالہ حافظ + پرائمری پروگرام اور حفاظ کے لیے چار سالہ میٹرک پروگرام—کو مرحلہ وار عملی شکل دی جا رہی ہے۔

ان شاء اللہ یکم جنوری 2027ء سے نئے سال کے آغاز پر اس پورے نظام کو مزید منظم اور مکمل طور پر نافذ العمل کرنے کی طرف باقاعدہ پیش رفت کی جائے گی، جس میں جدید کمپیوٹر و AI لیب، ڈیجیٹل تعلیم اور عملی Skills کو بھی نظام کا مستقل حصہ بنایا جائے گا۔

ہماری کوشش ہے کہ یہ نظام ایک ایسے جامع تعلیمی ماڈل کی صورت اختیار کرے جس میں قرآن، دینی علم، عصری تعلیم، کردار سازی، کمپیوٹر، AI اور عملی ہنر ایک مربوط ترتیب کے ساتھ طالب علم کی تربیت کا حصہ ہوں۔

ان شاء اللہ، یکم جنوری 2027ء سے اس نظام کو مکمل اور منظم شکل میں نافذ کرنے کا ہدف ہے